ہفتہ 14 فروری 2026 - 02:59
شعبان کے آخری جمعہ میں کوتاہیوں کی تلافی کریں، مولانا نقی مہدی زیدی

حوزہ/ حجت الاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے ماہ شعبان کے آخری جمعہ کو مؤمنین کو تقویٰ اختیار کرنے، گناہوں کی تلافی کرنے اور رمضان المبارک کی تیاری کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے دعا، استغفار، قرآن کی تلاوت اور حقوق اللہ و الناس کی ادائیگی پر زور دیا اور پاکستان میں شیعوں پر مظالم کے خلاف فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں نمازیوں کو تقوائے الٰہی کی نصیحت کے بعد حسب سابق امام حسن عسکری علیہ السّلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کی اور ماہ شعبان المعظم کے آخری جمعہ کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ: مشہور روایت کے مطابق آٹھویں امام حضرت علی رضا علیہ السلام نے شعبان کے آخری جمعہ میں اباصلت سے فرمایا: "اے اباصلت! ماہِ شعبان کا زیادہ تر حصہ گزر چکا ہے اور آج اس کا آخری جمعہ ہے، پس باقی دنوں میں اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرو اور ان باتوں پر عمل کرو جو تمہارے لیے اہم ہیں:"١۔ زیادہ دعا کرو، ٢۔ زیادہ استغفار کرو، ٣۔ زیادہ قرآن کی تلاوت کرو، ٤۔ گناہوں سے سچی توبہ کرو تاکہ خالص نیت کے ساتھ ماہِ رمضان میں داخل ہو سکو، ٥۔ اگر کسی کا حق ادا کرنا باقی ہے تو فوراً ادا کرو، ٦۔ اپنے دل سے تمام مومنین کے لیے بغض و کینہ نکال دو، ٧۔ ہر اس گناہ کو چھوڑ دو جس میں مبتلا ہو اور تقویٰ اختیار کرو، اللہ پر بھروسہ رکھو، ٨۔ ان دنوں میں کثرت سے یہ دعا پڑھو:

اللَّهُمَّ إِنْ لَمْ تَکُنْ غَفَرْتَ لَنَا فِیمَا مَضَی مِن شَعْبَانَ فَاغْفِرْ لَنَا فِیمَا بَقِیَ مِنْهُ...، "اے اللہ! اگر تو نے ہمیں شعبان کے گزرتے دنوں میں نہیں بخشا تو ان باقی دنوں میں ہمیں بخش دے۔"

انہوں نے امام رضا علیہ السلام کے اس قول کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ: ماہِ شعبان کے آخری جمعہ کو جو کچھ اب تک نہ کر سکے ہو، اس دن اس کی تلافی کرلو تاکہ جب ماہِ رمضان المبارک آئے تو تم خدا کے خاص بندے بن چکے ہو۔

خطیب جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ: شعبان المعظم کے با برکت مہینہ کو مؤمنین کے اخلاقی سال کا آخری مہینہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ معمول کی زندگی میں ہر آدمی اپنے لئے ایک مخصوص سال قرار دیتا ہے، اسی طرح وہ لوگ جو اپنی اخلاقی تربیت کرنا چاہتے ہیں ان کے سال کا آغاز ماہ مبارک رمضان سے ہوتا ہے۔ لہٰذا ماہ شعبان المعظم ان کے لئے سال کا آخری مہینہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ: اسکول اور کالج کے طلباء اپنے تعلیمی سال کے آخر میں امتحانات کی تیاری کے سلسلے میں کتنی محنت اور کوشش کرتے ہیں، زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنے اور ذہنی آمادگی میں لگے رہتے ہیں، اسی طرح جو لوگ ماہ شعبان المعظم کو اپنے لئے اخلاقی تربیت کا سال قرار دیتے ہیں ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے سال کے آخری مہینہ میں اگر واجب الادا قرض وغیرہ گردن پر ہے تو اسے ادا کرتے ہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو اداکرتے ہیں، اپنے گناہوں سے توبہ و تائب ہوجاتے ہیں، متروک واجب کو بجا لاتے ہیں، حرام کاموں پر توبہ کرتے ہیں اور ہر قسم کے حق حقوق کو ادا کرتے ہیں تاکہ منافع بخش چیزوں سے سال کا آغاز کریں، جو سال ختم ہونے والا ہو اس میں ہمیں دین کو سمجھنے، حقوق اللہ اور حقوق الناس ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے نقائص، گناہوں اور لغزشوں کی اصلاح کرنی چاہیے۔

امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے استقبال ماہ رمضان المبارک کے حوالے خطبہ شعبانیہ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس خطبہ میں نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کن چیزوں سے بچنا ضروری ہے۔

انہوں نے ماہ رمضان المبارک کے عظیم مہینے میں جن امور کو انجام دینا ضروری ہے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ: اپنا اخلاق اچھا بناؤ جس سے کہ تم پل صراط پر ثابت قدم رہو گے، اپنے ماتحتوں پر نرمی کرو تاکہ اللہ قیامت میں تمہارے ساتھ نرمی کرے، دوسروں کو اپنے شر سے بچاؤ جس کے نتیجے میں قیامت کے دن اللہ کے غیض و غضب سے بچ سکو گے، یتیم کی عزت کرنے سے اللہ قیامت میں آپ کی عزت و توقیر بلند کرے گا، رشتہ داروں سے نیکی کرنے سے قیامت کے دن پروردگار کی پناہ ملے گی، غریب اور تنگدست لوگوں کی مدد کرو اور صدقہ دو، اوقات نماز میں دعا کرو کیونکہ اللہ اس وقت اپنی طرف رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اپنے گروی رکھے گئے نفس کو آزاد کرو اس مقصد کے لئے زیادہ سے زیادہ استغفار کرو۔

حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے استقبال ماہ رمضان المبارک کا مزید بیان کرتے ہوئے کہا کہ: ماہِ رمضان المبارک کا استقبال سچی توبہ، گناہوں سے معافی، اور کثرتِ عبادات کی منصوبہ بندی کے ذریعہ کرنا چاہیے، رمضان المبارک کے آداب ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ روزہ رکھنے والا شخص خود ہی چاند دیکھے جس طرح رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہی چاند دیکھا کرتے تھے، سید ابن طاؤوس اعلیٰ اللّہ مقامہ اپنی کتاب اقبال الاعمال میں نقل کرتے ہیں کہ جب بھی ماہ مبارک رمضان کا چاند نظر آتا تھا تو پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا تھا، بہت زیادہ عبادتیں اوردعائیں کیا کرتے تھے۔ اور جیسے جیسے ماہ رمضان المبارک اپنی آخری منزلوں کی طرف قدم بڑھاتا تھا پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت غیر ہوتی جاتی تھی اور عبادتیں اور دعائیں طولانی تر ہوتی جاتی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ: اس مقدس مہینہ کے آداب اور سنتوں میں سے ایک یہ بھی ہے زیادہ سے زیادہ دعائیں مانگیں اور ساتھ ساتھ استغفار کریں اور صدقہ بھی دیا کریں، رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کے آخری خطبہ میں فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک میں نماز کے دوران کثرت سے دعا کیا کرو جو کہ قبولیت دعا کے لئے بہترین وقت ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان کرتا ہے، ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے، روزے دار کو چاہیے کہ اپنے گناہوں کے بوجھ کو سجدوں کے ذریعہ ہلکا کریں اور جان لیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کی قسم کھائی ہے کہ وہ نمازیوں اور سجدہ کرنے والوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا اور انہیں قیامت کے دن جہنم میں نہیں ڈالے گا اس مہینہ میں قرآن مجید کی ایک آیت کی تلاوت دوسرے مہینوں میں پورا قرآن ختم کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔

امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے پاکستان میں شیعوں پر ہو رہی مسلسل زیادتیوں پر گہرے رنج و غم اور شدید غصے کا اظہار اور شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس افسوسناک سانحے کے مجرموں کو فوری گرفتار کر کے قرارِ واقعی سزا دی جائے، انہوں نے کہا کہ شیعوں پر ہونے والے مظالم ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں اور یہ سوال اٹھایا کہ آخر کب تک بے گناہوں کے جنازے اٹھائے جاتے رہیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha